اور زیادہ

 

ارشاد عرشی ملک

 

گھر گھر میں ہے اب آہ و فغاں، اور زیا دہ

اُٹھتی چلی جاتی ہے اماں، اور زیا دہ

احساسِ تحفظ ہے، نہ احساسِ مروت

جینا ہوا شہروں میں گراں ، اور زیا دہ

ہم سا کوئی مظلوم جو آ جاتا ہے زد پر

وہ کھینچ کے رکھتے ہیں کماں، اور زیا دہ

الفاظ بھی کچھ تلخ تھے لہجہ بھی کسیلا

بھرتا گیا آنکھوں میں دُھوآں ، اور زیا دہ

پہلے بھی کہاں چین سے جینا تھا میّسر

شہ رگ پہ ہے اب نوکِ سناں ، اور زیا دہ

تم شوق سے پابند کرو میرے قلم کو

بندش پہ یہ ہوتا ہے رواں ، اور زیا دہ

جاری ہے ابھی کارگری کنُ،فیکوں کی

ہر لحظہ بدلتا ہے سماں، اور زیا دہ

اِک پور کی جنُبش پہ سمٹ آئی ہے دُنیا

گو پھیلتا جاتا ہے جہاں ، اور زیا دہ

دیکھو تو ذرا ،پردہ نشینوں کی ادائیں

ہوتے ہیں عیاں ،ہو کے نہاں ، اور زیا دہ

تُو پاس ہے پر قُرب کا احساس نہیں ہے

سُونا مجھے لگتا ہے مکاں، اور زیا دہ

کھو کر تجھے ہم سانس تو لیتے رہے لیکن

ہر پل ہوا احساسِ زیاں ، اور زیا دہ

سیتے رہے کل بیٹھ کے اُدھڑی ہوئی یادیں

آنسو ہوئے آنکھوں سے رواں ، اور زیا دہ

احساسِ تشکر نے اُٹھانے نہ دیا سر

ہوتے گئے ہم سجدہ کناں ، اور زیا دہ

چُپ رہنے کا ارشاد،وہ کرتے ہیں جب عرشی

کھُلتی ہے اُسی وقت زباں ، اور زیا دہ

Rate: 0