انوکھا معجزہ قرآن ہے

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

وادیِ بطحاء میں جو برسی گھٹا قرآن ہے

نور جو قلبِ محمد ؐپر گرا قرآن ہے

نہ یدِ بیضا نہ موسیٰ کا عصا قرآن ہے

تھے نشاں وہ بھی مگر ان سے سوا قرآن ہے

ہے عجائب کا جہاں ہر ایک آیت میں نہاں

رہتی دنیا تک انوکھا معجزہ قرآن ہے

معرفت کی مئے سے پُر ہر جرعہِ نایاب ہے

عارفوں کو جس کا ہے چسکا لگا قرآن ہے

سب مذاہب کی کتابیں رطب و یابس سے بھری

جس کا اک اک حرف ہے حرفِ خداقرآن ہے

پیش کر پائے نہیں جن و بشر اس کا جواب

چودہ صدیوں سے انہیں للکارتا قرآن ہے

۲

اک تجلی اس کی دل کے طور کو ٹکڑے کرے

اور پھر ٹوٹے دلوں کو جوڑتا قرآن ہے

ان گنت بیمار روحوں نے یہاں پائی شفا

تازگی دیتی ہے جو آب و ہوا قرآن ہے

دل کے آئینے کو کر دیتا ہے صیقل دفعتاً

زنگ برسوں کے جو دیتا ہے چھڑا قرآن ہے

طالبِ صادق کے سینے کے لئے دستِ شفا

دل کے ہر اک روگ کی شافی دوا قرآن ہے

چودہ سو سالوں سے پڑھا جا رہا ہے رات دن

پھر بھی تازہ خوش نما کتنا نیا قرآن ہے

اس کی جڑ پاتال میں شاخیں مگر آکاش میں

رس بھرے اثمار سے ہر پل لدا قرآن ہے

گریہ زاری کر سکے تو کر اسے پڑھتے ہوئے

ایک مومن کا تو حرفِ التجاء قرآن ہے

خلد کی اس مئے میں گر شامل ہو اشکوں کی شراب

پینے والے کے لئے دو آتشہ قرآن ہے

۳

آنکھ گر نہ رو سکے تو دل کو رونا چاہیے

حزن جس کی ہر سطر میں ہے بھرا قرآن ہے

یوں تو ہر فریاد کو سنتا ہے وہ ربِ کریم

کان دھر کر جس کو سنتا ہے خدا قرآن ہے

دل کے اندھوں کے لئے یہ نور ہے بینائی ہے

دل کے بہروں کے لئے بانگِ درا قرآن ہے

ظلمتوں میں کس لئے بیٹھے ہوئے ہو کاہلو

نور کا اک جگمگاتا قمقمہ قرآن ہے

اپنا حصہ کیوں نہیں لیتے ہو اس ورثے سے تم

آؤ میراثِ محمد مصطفیٰ ؐ قرآن ہے

ہے فنا ہر سمت سے گھیرے ہوئے انسان کو

اس جہاں میں صرف سامانِ بقا قرآن ہے

متقی کے واسطے بے شک ہے رحمت کی گھٹا

منکروں کے واسطے برق و بلا قرآن ہے

جستجوئے علم اس کو چھوڑ کر بے سود ہے

قربِ حق پانے کا سیدھا راستہ قرآن ہے

۴

موت اک خاموش واعظ ہے کوئی سمجھے اگر

دوسرا واعظ جو ہے نغمہ سرا قرآن ہے

اس کو چھو سکتا نہیں ہے کوئی پاکوں کے سوا

دل مطہر ہو تو پھر جلوہ نما قرآن ہے

خود لیا اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے

صاف ظاہر ہے کہ دُربے بہا قرآن ہے

اس چمن میں خوب گھومو خوب اس کے پھل چنو

ہر ثمر لذت سے ہے جس کا بھرا قرآن ہے

اس سرائے میں سکونت کس قدر پر لطف ہے

ہر دریچہ جس کا ہے راحت فزا قرآن ہے

دشت محرومی میں ہے یہ ایک یارِ مہرباں

بے کسی غربت میں یارِ آشنا قرآن ہے

ہر رگ و ریشے میں بھر دیتا ہے یہ خوفِ خدا

عجز کی راہیں جو دیتا ہے سُجھا قرآن ہے

آتشِ عشقِ الٰہی دل میں سلگاتا ہے یہ

اور اس آتش کو پھر دیتا ہوا قرآن ہے

۵

اک اندھیری غار کو جس نے منور کر دیا

نور ہے ارض و سما کا وہ ضیاء قرآن ہے

لطفِ ربانی کا ہے یہ ایک بحرِ بیکراں

ان گنت سُچے جواہر سے بھرا قرآن ہے

لے چلا انگلی پکڑ کر راہ پر گمراہ کو

ہادیِ واحد ہے سچا راہنما قرآن ہے

قلبِ انساں میں ازل سے ثبت ہیں اس کے نقوش

اور فطرت کے صحیفے پر لکھا قرآن ہے

خود تراشیدہ وظائف سب کے سب بے کار ہیں

قربِ حق پانے کا سیدھا راستہ قرآن ہے

لفظ’’اقرا‘‘بن کے جو گونجی حرا کی غار میں

ایک اُمّی کی وہی آہِ رسا قرآن ہے

عقل والوں کے لئے حرفِ نصیحت یہ کتاب

مومنوں کے واسطے راہِ ھدیٰ قرآن ہے

کاش دیں اعمال میں بھی ہم اسے اونچا مقام

یوں تو اونچے طاق پر سب نے دھرا قرآن ہے

۶

بھر دیا کشکول عرشیؔ اس نے بن مانگے مرا

اک سخی کے ہاتھ کی جود و عطا قرآن ہے

…………………………………

Rate: 0