الوداع اے ماہِ رمضان

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

سال میں بس اِک دفعہ آتا ہے یہ مہمان بھی

لوٹ کر جانے کو ہے کچھ روز میں رمضان بھی

 

جھولیاں بھر لیں کسی نے کوئی خالی رہ گیا

سب کی قسمت میں نہیں یہ نعمتِ رحمان بھی

 

پَر لگے ہوں جس طرح ایاّم معدودات کو

اُڑ گئے عرشیؔ یہ دن کر کے ہمیں حیران بھی

 

کچھ نے تو چائو سے کی آئو بھگت رمضان کی

کچھ کو ہو پائی نہ پر اِس نور کی پہچان بھی

 

پیٹ پوجا تو ہوئی پر روح بھوکی رہ گئی

آسماں سے گرچہ اُترا نعمتوں کا خوان بھی

 

خوش نصیبوں کے لئے جنت کا دروازہ ہے جو

کم نصیبوں کے لئے وہ ہے درِ زندان بھی

 

لاکھ بارش ہو مگر بھرتے نہیں اوندھے گھڑے

ٹوٹ کر برسا کرے گو رات دن باران بھی

 

تم کو اپنی تنگ دامانی کا شکوہ ہے عبث

ہے خدا کے پاس علاجِ تنگیِ دامان بھی

 

پاک ہونے کا گناہوں سے ہے آساں راستہ

اور پھر حسنات میں بڑھنے کا ہے میدان بھی

 

دوڑو بھاگو آخری عشرہ پکڑ لو غافلو

سُستیوں میں کھو نہ جائے جادہِ آسان بھی

 

الوداع کہنا تجھے مشکل ہے اے ماہِ کریم

تُو خدا کا فضل بھی ، انعام بھی ، احسان بھی

٭٭٭٭٭٭

Rate: 0