السلام علیکم کا تحفہ

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے۲۴مارچ ۱۹۸۹؁کو جماعت کی دوسری صدی کے پہلے خطبے میں فرمایا

’’وہ خدا جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہی،اس کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار اور محبت کے ساتھ واضح  اور کھلی کھلی آواز میں اس صدی کا پہلا الہام مجھ پر یہ نازل کیا ہے کہ’’السلام علیکم و رحمتہ اللہ ‘‘تا کہ میں اسے تمام دنیا کی جماعتوں کے سامنے پیش کر سکوں۔دنیا چاہے ہزار لعنتیں آپ پر ڈالتی پھری،کروڑ کوشش کرے آپ کو مٹانے کی،مگر اس صدی کے سر پر نازل ہونے والا سلام ہمیشہ آپ کے سروں پر رحمت کا سایہ کئے رکھے گا۔

پس وہ مخلصین جو اس آواز کو سن رہے ہیں اور وہ سب احمدی جو اس آواز کو نہیں سن رہے،سب کواللہ تعالیٰ کی طرف سے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کا تحفہ پہنچے۔مجھے یقینِ کامل ہے کہ یہ سلام ان احمدیوں کو بھی پہنچے گا ،جو ابھی پیدا نہیں ہوئے،ان احمدیوں کو بھی پہنچے گا جو ابھی احمدی نہیں ہوئے۔ان قوموں کو بھی پہنچے گا جن تک ابھی احمدیت کا پیغام نہیں پہنچا۔آئندہ سو سال میں احمدیت نے جو ترقی کرنی ہے،ہم ابھی اس کا تصور بھی نہیں باندھ سکتے۔لیکن یہ میں جانتا ہوںکہ دنیا میں جہاں بھی احمدیت پھیلے گی،ان سب کو اس سلام کا تحفہ ہمیشہ ہمیش پہنچتا رہے گا۔مجھے یقینِ کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہاتو خدا تعالیٰ تقویٰ کی نئی لہر اس صدی کے لئے بھی جاری کرے گا اور رحمتوں کے نئے پیغام آئندہ صدی کے لئے خود پیش فرمائے گا۔‘‘

                                                                          روزنامہ الفضل ۴ اپریل  ۱۹۸۹

فصلِ بہار تھی وہ مہینہ تھا مارچ کا

انیسویں صدی تھی وہ سن تھا انانوے

چوبیسویں کی شب تھی وہ روزِ سعید تھا

وہ پل نئے صدی کے طلوع کی نوید تھا

ہر احمدی کے حال پہ فضلِ مزید تھا

 

سو سال قبل بیج جو بویا گیا بڑھا

شاخیں گھنی ہوئیں وہ تناور شجر بنا

ہر سر زمیں پہ پھیل گیا اس کا سلسلہ

پھولوں سے اور میووں سے جب پیڑ لد گیا

تحفہ ملا خدا کی طرف سے سلام کا

یہ گھونٹ سرمدی تھا محبت کے جام کا

 

ہم سے امامِ وقت نے خطبے میں یہ کہا

الہام اس صدی کا ہے پہلا خدا گواہ

قبضے میں جس کے جاں ہے مری اس کا ہے پیام

اس نے بڑی ہی چاہ سے بھیجا تمہیں سلام

ہر چند لعن طعن کرے تم پہ یہ جہاں

دل کو دکھائے تم سے کرے بد زبانیاں

کیا خوف دشمنوں کا خدا جب ہے مہرباں

اس کا سلام اپنے سروں کا ہے سائباں

 

جو سن رہے ہیں میرا بیاں ان کو ہے سلام

حاضر نہیں جو آج یہاں ان کو ہے سلام

اس کا سلام ان پہ جو تقویٰ شعار ہیں

تن من سے اس کی راہ میں ہر پل نثار ہیں

دنیا سے جا چکے ہیں جو ان کو سلام ہے

پیدا نہیں ہوئے ہیں جو ان کو سلام ہے 

پہنچا نہیں جنہیں ابھی اسلام کا پیام

لیکن تلاشِ حق میں ہی رہتے ہیں جو مدام

قومیں جو تم سے آکے ملیں گی انہیں سلام

تم سے قدم ملا کے چلیں گی انہیں سلام

تم سب کو ہے خدا نے کہا السلام علیکم

ہے اس کے منہ کی تم کو دعا السلام علیکم

تم نے نبھائی رسمِ وفا السلام علیکم

ہر دکھ کو مسکرا کے سہا السلام علیکم

بھائی اسے یہ طرزِ ادا السلام علیکم

تا حشر تم سنو گے ندا السلام علیکم

خوش ہو کہ تم سے خوش ہے خدا السلام علیکم

………………………………

Rate: 0