اعتکاف کے دس دن

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

خوب راز و نیاز کی راتیں، خوب سوز و گداز کے دن ہیں

آنسوئوں سے وضو کیا دل نے،عاشقوں کی نماز کے دن ہیں

بند کر لے کواڑ دنیا سے، ہاں یہی احتراز کے دن ہیں

قصّہِ غم طویل کر عرشیؔ، داستانِ دراز کے دن ہیں

 

حالِ دل آج بے جھجک کہہ دے، کل یہ سوزِ نہاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

وحدہ لا شریک تو مالک اور میں بندہِ حقیر تریں

شوخ کرتا ہے میرے جیسوں کو تیری بخشش پہ لازوال یقیں

یہ جو تابِ سخن عطا کی ہے اس کے دم سے ہے داستاں رنگیں

ورنہ تیرے حضور لب کھولیں یہ فرشتوں کی بھی مجال نہیں

 

مان میرا یونہی بنا رکھنا جراتِ عاشقاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

دل شکستہ ہوں تیری جانب سے کچھ مدارات ہو تو بات بنے

کچھ انوکھی سی مہربانی ہو خاص کچھ بات ہو تو بات بنے

رات تنہائیاں ، تری یادیں،پھر مناجات ہو تو بات بنے

آنسوئوں کی مری نمازوں میں کُھل کے برسات ہو تو بات بنے

 

حالتِ جذب آج طاری ہے، کل یہ طرزِ فغاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

میرے جیسوں کے چومنے کے لئے اک ترا  سنگ در ہی کافی ہے

یادِ محبوب سے جو دل چُوکے اس کو اتنا ضرر ہی کافی ہے

تیری چاہت بندھی ہے پلوّ سے بس یہ رختِ سفر ہی کافی ہے

تیرے گھر تک جو مجھ کو لے جائے، مجھ کو وہ رہ گذر ہی کافی ہے

 

دیر مت کر اب اور ملنے میں جان ہے ناتواں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 ِ

تیرے در پر ہی دل بہلتا ہے، تیری چوکھٹ پہ جاں سنبھلتی ہے

زخم سارے تجھی کو دکھلائوں،دل میں یہ آرزو مچلتی ہے

آنسوئوں کی گھٹائیں دے مالک ،میرے دل کی زمین جلتی ہے

خُوب رو لوں تو چین آ جائے، بھاپ یونہی کہاں نکلتی ہے

 

تیری رحمت ہے آنسوئوں کی جھڑی،کل یہ چشمہ رواں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

کیوں نہ میں آج زندگی کو جیوںزندگی نے مجھے جیا برسوں

سانس لینا فقط نہیں جینا میں نے یہ زہر بھی پیا برسوں

تجھ سے غفلت میں عمر گذری ہے ہائے یہ جُرم بھی کیا برسوں

بے حسی مجھ پہ ایسی چھائی تھی نام تیرا نہیں لیا برسوں

 

آج پر عشق میں گداز ہے دل اب غمِ دو جہاں رہے نہ  رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

خُوب تنہائیاں میسّر ہیں ،کیوں نہ جی بھر کہ آج ہم رو لیں

خود سے پہروں کریں تری باتیں ، گرد آنکھوں کی اس طرح دھو لیں

ہم جو بولیں تو ذکر ہو تیرا،اور اس کے سوا نہ لب کھولیں

لہلہائے گی جو قیامت تک،کیوں نہ وہ فصل ذکر کی بو لیں

 

تُو ہے باقی،بقا فقط تجھ کو،اور مری داستاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے،کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

دل سلگنے سے جل گیا سینہ ایسی حدّت تھی اس شرارے میں

وقت ملتا نہ تھا سنبھلنے کا بہہ رہی تھی غموں کے دھارے میں

تیرے در سے ہی ہر نفع پایا ورنہ میں تھی بڑے خسارے میں

میں تو موری کی اینٹ تھی پیارے تو نے مجھ کو جڑا چوبارے میں

 

دل ہے زندہ تری نوازش سے جسم خستہ مکاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

میری باتوں پہ لوگ کہتے ہیں یہ تو باتیں ہیں سر پھروں جیسی

شاعری کیا ہے آہ و زاری ہے گفتگو ہے یہ دل جلوں جیسی

میری حالت کا عکس ہیں نظمیں جو ہے برباد بستیوں جیسی

روح بے چین مضطرب ہے دل زندگی اپنی رت جگوں جیسی

 

دوستی میں نے کی ترے غم سے اب کوئی راز داں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

رات دن ہیں نوازشیں جاری،کیا تری شانِ شہر یاری ہے

مجھ سی بے کس پہ یہ کرم تیرا،ہائے کیا لطفِ غم گساری ہے

تُو تو کہتا ہے مانگ جو چاہے،آج فضلوں کی بے شماری ہے

میں مگر تیرے منہ کو تکتی ہوں،عشق کا دل پہ زخمِ کاری ہے

 

تیرے جلوے اُتار لوں دل میں،کل اِن آنکھوں میں جاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے،کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

کس سے میں شہر میں ملوں جا کر اب کسی سے بھی دل نہیں ملتا

ایسا مُرجھا گیا ہے یہ غنچہ لاکھ کوشش کروں نہیں کھلتا

زخم گہرا ہے اور پیچیدہ مجھ اناڑی سے یہ نہیں سلتا

تیرا کوچہ ہے مجھ کو راس آیا دل کسی طور اب نہیں ہلتا

 

یہ ٹھکانہ مجھے بہت کافی اب زمیں آسماں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

دین و ایمان میرا تو پیارے تو مرا شوق میرا عزم و یقیں

تیرے در پر سکون پاتی ہے یہ مری بے قرار جانِ حزیں

عجز ہی وہ سنگھار ہے مالک جو بناتا ہے آدمی کو حسیں

سر فرازی اسی کی قسمت ہے تیری چوکھٹ پہ خم ہوئی جو جبیں

 

ورنہ ہستی ہی کیا ہے انساں کی اس کا نام و نشاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

زندگی اک سفر مرے مالک اور مسافر ہوں میں تھکی ہاری

بوجھ دل پر لدا غفلت کا ، سر پہ گٹھری گناہ کی بھاری

جا چکے دوست آشنا کتنے، اب ہے سر پر کھڑی مری باری

صرف بخشش کا آسرا پیارے ،تیری بندی ہوں ایک بے چاری

 

مجھ کو رہنے دے اپنے قدموں میں کوئی گھر یا مکاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

خود سری سے غرق ہوا فرعوں ،اس نے کفر اور شر سے کیا پایا

اپنی جنت میں دھنس گیا قاروں، اس قدر مال و زر سے کیا پایا

بُو لہب کے شکستہ ہاتھوں نے، شوکتِ بے ثمر سے کیا پایا

بُو حکم بُو جہل بنا آخر، اس  نے علم و ہنر سے کیا پایا

 

بس ترا فضل ہو تو بات بنے علم و فن کا نشاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

جن کے دل میں ترا بسیرا ہو ان کو پت جھڑ ہو یا بہار حسیں

قرب کا جو ترے مزہ چکھ لیں چین پاتے نہیں پھر اور کہیں

عاشقوں کے دلوں کی رونق تو ان مکانوں کا ایک تو ہی مکیں

تیرے در پر گریں تو پھر نہ اٹھیں تیرے عاشق سدا کے خاک نشیں

 

روح جب مستقل ہو سجدے میں پھر صدائے اذاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے ، کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

میرے دل کی زمین بنجر تھی،تیرے فضلوں سے لہلہا اٹھی

جسم و جاں کو بھگو گئی یکسر،تیری رحمت کی جب گھٹا اٹھی

سوچ ابتر تھی روح میلی تھی،تیرے فضلوں سے جگمگا اٹھی

اور ان دل گداز لمحوں میں میرے دل سے یہی صدا اٹھی

 

اِذن دے دے کہ آج سب کہہ دوں،کل یہ طرزِ بیاں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے،کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

زندگی پل صراط ہے اپنی اور یہی عاشقوں کا جادہ ہے

دل کو مل مل کے آج دھونا ہے ،اس پہ اک میل کا لبادہ ہے

آنسوئوں سے نہائی ہیں آنکھیں،دل بھی کچھ با وضو زیادہ ہے

جذب و مستی میں ڈوب کر عرشیؔ دو رکعت عشق کا ارادہ ہے

 

آج موسم ہے قدر دانی کا،کل کوئی قدر داں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے،کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

عجز بندوں کا تجھ کو بھاتا ہے ،سو اسی کا سنگھار کرتی ہوں

تیری چاہت کی چاہ میں مولا، تیرے بندوں سے پیار کرتی ہوں

اپنے شعروں میں دل کے داغوں کا شوق سے میں شمار کرتی ہوں

تیری باتوں سے دل نہیں بھرتا،اب مگر اِختصار کرتی ہوں

 

رحمتوں سے تری رواں ہے قلم،کل یہ جانے رواں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے،کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

 

ہم نے دنیا میں رہ کے دیکھا ہے گھر گئے تھے عجب جھمیلے میں

ہر طرف بھیڑ چال جاری تھی ،بہہ رہے تھے سب ایک ریلے میں

تیری دنیا نِرا بکھیڑا ہے ،چین و آرام ہے اکیلے میں

اپنے حُجرے میں مطمئن ہوں میں،خوب رونق ہے دل کے میلے میں

 

بس یہ دس دن بڑے غنیمت ہیں،پھر یہ محفل جواں رہے نہ رہے

کل کے دن کی کسے خبر پیارے،کل کا دن مہرباں رہے نہ رہے

Rate: 0