ادنیٰ کنیز

ارشاد عرؔشی ملک

ہماری جماعت کے ایک محترم بزرگ جو بہت پڑھے لکھے اور قابل شخص ہیں ’’الفضل ‘‘ اور دیگر رسائل میں شائع ہونے والی  اس عاجز  کی  نظمیں بڑے ذوق و شوق اور غور و فکر سے پڑھتے ہیں اور اکثر فون کر کے کچھ نہ کچھ تبصرہ اور تنقید بھی کرتے ہیں۔ گذشتہ دنوںاُنہوں  نے  فون کر کے میری شاعری پر سخت تنقید کی اور فرمایا کہ کچھ عرصے سے آپ کی شاعری بہت یکسانیت کا  شکار ہو گئی ہی۔ اور صرف جماعتی موضوعات تک محدود ہو گئی ہے آپ نے خود کو ایک ہی دائرے میں مقید کر لیا ہے لہذٰاآپ کے کلام کا لطف بالکل جاتا رہا ہے اور اس میں پھیکا پن آگیا ہی،اس محدود دائرے سے  ذرا  باہر نکلیں ، اپنی صلاحیتوں کو ضائع نہ کریں،اور موضوعات پر بھی لکھیں ۔جماعت سے باہر بھی ایک وسیع دنیا ہے  وغیرہ وغیرہ  ۔۔۔۔اس عاجز نے اپنا نکتہ ِ نظر پیش کیا لیکن وہ اس سے متفق نہیں تھے،بہر حال اس منفی  تنقید کا  مُثبت اثر یہ ہوا کہ یہ نظم ہو گئی جس کو اُنہیں محترم بزرگ کے نام کرتی ہوں۔

 

آپ کہتے ہیں کہ پھیکی ہے تمہاری شاعری

ہر سطر ہر شعر میں مدح خلافت کی بھری

اور بھی موضوع ہیں دنیا میں بہت اس کے سوا

ایک ہی سُر پر ہے کیوں اٹکی تمہاری بانسری

 

پڑھنے والوں کے لئے اس میں نیا کچھ بھی نہیں

اب تمہارے شعر پڑھنے میں مزہ کچھ بھی نہیں

نہ تو موضوعات میں جِدت ہے نہ ندرت کوئی

سچ اگر سن پاؤ تو اب ذائقہ کچھ بھی نہیں

 

عرض کی میں نے ادب سے اے بزرگِ محترم

آپ پڑھتے ہیں مجھے ہے آپ کا بے حد کرم

میں نے تو ہر ایک موضوع پر اٹھایا ہے قلم

اور خدا کے فضل نے رکھا سدا میرا بھرم

 

آپ کو شکوہ ہے کیوں محصور ہے میرا قلم

پھنس گیا ہے دین میں مجبور ہے میرا قلم

میں یہ کہتی ہوں کہ یہ میرے لئے اعزاز ہے

وقفِ دیں جب سے ہوا مغرور ہے میرا قلم

 

آپ کہتے ہیں کہ یہ محرومِ وسعت ہو گئی

شاعری جب سے مری وقفِ جماعت ہو گئی

میں یہ کہتی ہوں مجھے عہدِ بیعت بھولا نہیں

اس کے صدقے ہی خدا کی یہ عنایت ہو گئی

 

آپ کہتے ہیں کہ اک نکتے پہ کیوں میں ہوں اڑی

اس جماعت سے الگ بھی ایک دنیا ہے بڑی

ہاں اسی دنیا کو میں ٹھکرا کے آئی تھی یہاں

ورنہ وہ دنیا تو میری ٹھوکروں میں تھی پڑی

 

میری خوش بختی کہ مہدؑی کا زمانہ پا لیا

میں تو غافل تھی مجھے اس کے کرم نے آ لیا

اب اسی دربار کی کوئل ہوں ہر پل کوکتی

چھوڑیے بھی آپ نے کافی مجھے سمجھا لیا

 

کس طرح اب میں گل و بلبل کے افسانے کہوں

مطلب و مقصد سے عاری شاعری کیوں کر کروں

چھوڑ کر پھیلا ہوا تازہ تجلی کا جہاں

یونہی فرضی وادیوں میں کس لئے بھٹکا کروں

 

احمدیت کے لئے اب وقف ہے میرا قلم

ہاں خلافت کے لئے اب وقف ہے میرا قلم

کام ہے میرا مریدی پیر ہے میرا مسیح

بس ارادت کے لئے اب وقف ہے میرا قلم

 

جان و مال اور وقت ہے سب کچھ خلافت پر نثار

کر چکے ہیں ہم خدا کے ساتھ یہ قول وقرار

یہ قلم کو تھامنے کی بھی جو طاقت ہے مجھے

 اک امانت ہے جماعت کی چکانا ہے ادھار

 

ہیں جماعت کے لئے اب محفلیں اور فرصتیں

ہیں جماعت کے لئے اب فرقتیں اور قربتیں

دل کو اب کچھ بھی جماعت کے سوا بھاتا نہیں

ہیں جماعت کے لئے جذبوں کی ساری شدتیں

 

کاش بھا جائے مرے مولا کو میری اک سطر

کاش کوئی حرف ہو اس کی نظر میں معتبر

کاش برگ و بار سے لد جائے عرشیؔ کا شجر

کاش ان شاخوں سے اتریں ہر گھڑی تازہ ثمر

 

ایک عاجز کی دعا سن لے مرے ربِ حفیظ

رہنمائی کر ہماری ، خیر و شر میں دے تمیز

تجھ کو میں کر کے گواہ ، کہتی ہوں اے ربِ حفیظ

میں کہ دربارِ خلافت کی ہوں اِک ادنیٰ کنیز

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Rate: 0